مبیع پر قبضہ سے پہلے اسے آگے فروخت کرنے کا حکم (ڈراپ شپنگ)
خلاصہ
ایک تاجر خریدار سے پہلے قیمت طے کر لیتا ہے، پھر دکاندار سے سامان خرید کر براہ راست خریدار کے گھر ڈیلیور کروا دیتا ہے اور درمیان میں نفع رکھتا ہے، جبکہ اس کے پاس سامان کا پہلے سے قبضہ یا ملکیت نہیں ہوتی۔ شرعی اصول یہ ہے کہ جس چیز پر بائع کی ملکیت یا قبضہ نہ ہو، اسے بیع کرنا جائز نہیں۔
اگر تاجر محض خریدار سے سودا طے کر کے قبضہ کیے بغیر دکاندار کو براہ راست بھیجنے کا کہتا ہے تو یہ “بیع ما لا یملک” کے تحت ناجائز ہے۔ بہتر یہ ہے کہ پہلے خود خرید کر قبضہ میں لے لے (یا ضمان منتقل ہو جائے) پھر فروخت کرے، یا دلال بن کر کمیشن لے۔
حدیث شریف میں ہے: “لا تبع ما لا تقبض”۔ فتاوی شامی اور فتح القدیر میں بھی اسی اصول کی وضاحت ہے۔
شرعی نقطات
• بغیر قبضہ کے بیع کرنا جائز نہیں
• پہلے خرید کر قبضہ میں لانا ضروری ہے
• دلالی (بروکر) کا طریقہ جائز ہے
• نفع کے لیے بیع ما لا یملک حرام ہے
اصل اردو فتویٰ
https://www.banuri.edu.pk/readquestion/dropshipping-ka-kiya-hukm-hey-144710101235/07-04-2026