MASLA / FATWA

مبیع پر قبضہ سے پہلے اسے آگے فروخت کرنے کا حکم (ڈراپ شپنگ)

June 11, 2026 By shaikhzubair72748@gmail.com

خلاصہ

ایک تاجر خریدار سے پہلے قیمت طے کر لیتا ہے، پھر دکاندار سے سامان خرید کر براہ راست خریدار کے گھر ڈیلیور کروا دیتا ہے اور درمیان میں نفع رکھتا ہے، جبکہ اس کے پاس سامان کا پہلے سے قبضہ یا ملکیت نہیں ہوتی۔ شرعی اصول یہ ہے کہ جس چیز پر بائع کی ملکیت یا قبضہ نہ ہو، اسے بیع کرنا جائز نہیں۔

اگر تاجر محض خریدار سے سودا طے کر کے قبضہ کیے بغیر دکاندار کو براہ راست بھیجنے کا کہتا ہے تو یہ “بیع ما لا یملک” کے تحت ناجائز ہے۔ بہتر یہ ہے کہ پہلے خود خرید کر قبضہ میں لے لے (یا ضمان منتقل ہو جائے) پھر فروخت کرے، یا دلال بن کر کمیشن لے۔

حدیث شریف میں ہے: “لا تبع ما لا تقبض”۔ فتاوی شامی اور فتح القدیر میں بھی اسی اصول کی وضاحت ہے۔

شرعی نقطات
• بغیر قبضہ کے بیع کرنا جائز نہیں
• پہلے خرید کر قبضہ میں لانا ضروری ہے
• دلالی (بروکر) کا طریقہ جائز ہے
• نفع کے لیے بیع ما لا یملک حرام ہے

اصل اردو فتویٰ
https://www.banuri.edu.pk/readquestion/dropshipping-ka-kiya-hukm-hey-144710101235/07-04-2026